مزید مطالعات کے لئے ،  یہاں کلک کریں

print.png

3. You Must Be Born Again

آپ کو نئے سرے سے پیدا ہونا چاہیے!

ہم میں سے بہت سے لوگ اِس قول سے واقف ہیں: " آپ کو دوبارہ پیدا ہونا چاہیے!" یہ کلام پاک کی ایک معروف آیت ہے جو مسیحی برادری کے خاص طور پر مغربی دُنیا کے کچھ شعبوں کو واضح کِیا گیا ہے۔ لہذا مسیحت کے کسی خاص شعبے سے " دوبارہ جنم لینے" کی اصطلاح کو جوڑنا آسان ہے۔ تاہم ہمیں اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے کہ یہ یسوع ہی تھا جس نے یہ دلچسپ بیان دیا تھا اور اس سے بھی اہم بات، " آپ کو دوبارہ پیدا ہونا لازمی ہے" کی اصطلاح ایک جواب تھا۔

مختصر! سوال یہ ہے کہ: " مَیں ابدی زندگی کیسے حاصل کروں؟"

اِس سوال اور اِس کے جواب کے اندر ہمیں انجیل کے پیغام کا سنگم مل جاتا ہے۔ بہت سے عام لوگوں نے یسوع کی صحبت طلب کی۔اس کے قریب رہ کرنا اِن کے لئے محفوظ تھا کیونکہ انہیں کھونے کے لئے بہت کم تھا۔ دوسرے، جو اِس وقت کے مذہبی نظام کا حصہ تھے،یسوع کو احتیاط سے سمجھتے تھے۔ شاید وہ اس کے پیغام سےمسحور تھے۔لیکن زندگی میں اپنے اسٹیشن کی وجہ سے اپنا فاصلہ برقرار رکھتے تھے۔وہ جانتے تھے کہ یسوع کی پیروی کرنا یا اس کی تعلیم کو منظور کرنا اِس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ ان کی ساکھ کو خطرے میں ڈالیں گے۔وہ کسی ایسے شخص کے طور پر جانا جا سکتا ہے جس نے کسی مذہبی جنونی کے ساتھ مشورہ کیا تھا۔ کیونکہ اس کے دور کے قائم مذہبی ترتیب میں کچھ لوگوں نے مسیح کو دیکھا۔ وہ ایک متنازعہ شخصیت تھی اور اب بھی ہے۔ یوحنا کی انجیل کے تیسرے باب میں ہم نے ایک ایسے شخص کے بارے میں پڑھا جو اپنے دور کے مذہبی معاشرے میں اعلی ترتیب سے یسوع کی عیادت کرنے والے شخص کے بارے میں پڑھا جو نیکودیمس کے نام سے ایک شخص ہے۔

نیکودیمس کے نام سے ایک فریسی:

" 1فریسیوں میں سےایک شخص نیکودیمس نام یہودیوں کا ایک سردار تھا۔2 اَس نے رات کو یسوع کے پاس آکر اُس سے کہا اے ربی ہم جانتے ہیں کہ تو خدا کی طرف سے اُستاد ہو کر آیا ہے کیونکہ جو معجزے تو دکھاتا ہے کوئی شخص نہیں دکھا سکتا جب تک خدااُس کے ساتھ نہ ہو۔3 یسوع نے جواب میں اُس سے کہا مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک کوئی نئے سرے سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی کو دیکھ نہیں سکتا۔4 نیکودیمس نےاُس سے کہا آدمی جب بوڑھا ہو گیا تو کیوں کر پیدا ہو سکتا ہے؟ کیا وہ دوبارہ اپنی ماں کے پیٹ میں داخل ہو کر پیدا ہوسکتا ہے؟۔5 یسوع نے جواب دیا کہ مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں جب تک کوئی آدمی پانی اور روح سے پیدا نہ ہو وہ خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوسکتا۔6 جو جسم سے پیدا ہوا ہے جسم ہے اور جو روح سے پیدا ہوا ہے روح ہے۔

7 تعجب نہ کر کہ مَیں نے تجھ سے کہا تمہیں نئے سرے سے پیدا ہونا ضرور ہے۔8 ہوا جدھر چاہتی ہے چلتی ہے اور تو اُس کی آواز سنتا ہے مگر نہیں جانتا کہ وہ کہاں سے آتی اور کہاں کو جاتی ہے۔ جو کوئی روح سے پیدا ہوا ایسا ہی ہے۔9 نیکودیمس نے جواب میں اُس سے کہا یہ باتیں کیوں کر ہوسکتی ہیں؟۔10 یسوع نے جواب میں اُس سے کہا بنی اسرائیل کا اُستاد ہو کر کیا تو اِن باتوں کو نہیں جانتا؟۔ 11مَیں تجھ سے سچ کہتا ہوں کہ جو ہم جانتے ہیں وہ کہتے ہیں اور جسے ہم نے دیکھا ہے اُس کی گواہی دیتے ہیں اور تم ہماری گواہی قبول نہیں کرتے۔ 12جب میں نے تم سے زمین کی باتیں کہیں اور تم نے یعقین نہیں کیا تو اگر مَیں تم سے آسمان کی باتیں کہوں توکیوں کر یعقین کروگے؟۔ ( یوحنا 1:3ـ12)

یوحنا رسول نے اب ہمیں مسیح کے شخص کے طور سے تعارف کے بہت سارے الفاظ دیئے ہیں۔ مثال کے طور پر، خدا کے ساتھ شروع میں اِس کا وجود، یوحنا بپتسمہ دینے والے کے ذریعہ اِس کا بپتسمہ،اور اِس نے لوگوں کو اپنے آپ سے رشتہ دار بنایا ہے۔جب ہم تیسرے باب کا آغاز کرتے ہیں تو یوحنا اب ہمیں خداوند یسوع، یعنی دوبارہ پیدا ہونے کی ضرورت کے بارے میں سب سے پہلے اور گہرے درس کا تعارف کراتا ہے۔ خداوند نے اپنی تعلیم کے آغاز ہی سے واضح کیا کہ ہم اپنے کاموں سے کبھی بھی خدا کے ساتھ ہمیشگی میں داخل نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ مسیح دوبارہ جنم لینے کی مشابہت کا استمعال کرتا ہے۔یہ ایسی کوئی چیز نہیں ہےجسے ہم اپنی طاقت اور صلاحیتوں کے ذریعہ پورا کر سکیں۔ ہم میں سے کتنے لوگوں کا جسمانی طور پر دنیا میں پیدا ہونے سے کوئی تعلق تھا؟۔اِس معاملے میں ہمارا کوئی حصہ نہیں تھا اور نہ ہی کہنا ہے!ہم میں سے ہر ایک دوسرے اور خدا کے نتیجے میں آیا تھا۔خدا نے خود اِس کی دوبارہ پیدائش کا آغاز کیا ہے۔ اس نےاپنے چھٹکارے کے منصوبے کے ذریعہ ہمارے پاس اس کی طرف لوٹنے کا راستہ بنا لیا ہے۔جو کچھ ہم نہیں کرسکتے، وہ اپنے بیٹے یسوع کے وسیلے سے پورا کرچکا ہے۔

ہم یہ فرض کرسکتے ہیں کہ نیکودیمس کے ساتھ یہ ون آن ون ملاقات یروشلم میں ہوئی ہے، کیونکہ ہمیں پچھلی عبارت میں بتایا گیا ہے کہ یسوع فسح کی تقریب میں شریک ہو رہا تھا، اور وہاں بہت سے لوگوں نے وہ معجزاتی نشان دیکھے تھے جو وہ کر رہا تھا، اور ان پر اعتماد کیا۔ اس ( یوحنا 2:23) یسوع نے خود بیان کیا تھا کہ وہ اکثر یروشلم کی ہیکل اور عدالتوں میں تعلیم دیتا تھا۔ ( یوحنا 18:20)، لہذا یہ خیال کرنا بھی میطقی ہے کہ نیکودیمس وہی علامات اور معجزات دیکھ رہا تھا جن کا ذکر کیا گیا تھا۔ کلام پاک کے اس حوالہ سے نیکودیمس کے بارے میں تین چیزیں ہیں جو ہمیں کچھ اشارہ کے طور پہ ملتی ہیں جہاں سے وہ آرہا تھا۔

1 وہ ایک فریسی تھا یعنی ایک ایسا لفظ جس کا مطلب ہے " الگ الگ"۔ فریسی ایک گہرا مذہبی گروہ تھا۔ جس میں کبھی بھی 6000 سے زیادہ افراد شامل نہیں تھے جو قانون کی ہر تفصیل کا مشاہدہ کرنے کے پابند تھے۔ جیسا کہ اسرائیل کے قانون کے اساتذہ نے بیان کیا تھا۔ فریسیوں کے نزدیک بائبل کی پہلی پانچ کتابوں میں موسی' کے بیان کردہ احکام کو ماننا کافی نہیں تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ہر حکم کی وضاحت کی جائے اور اسے ایک اصول بنایا جائے۔ مثال کے طور پر وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ سبت کے دن کام نہ کرنا اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا کوئی سبت کے دن ٹہلنے جاسکتا ہے؟۔ کیا اس کو کام سمجھا جائے گا؟ ٹہلنے کے لئےکوئی کتنا دورجا سکتا ہے؟ ایسی سیر پر کون شخص چل سکتا ہے؟۔اسرائیلوں نے ایسے قوانین اور احکام کو بیان کرنے اور اس کی وضاحت کرنے کے لئے تلمود نامی ترسٹھ جلدیں لکھیں۔ ایک سبت کے دن کا سفر جیسا کہ فریسیوں کے ذریعہ طے کیا گیا تھا وہ دو ہزار ہاتھ ( ایک ہزار گز ) تھا، لیکن اگر کسی گلی کے آخر میں رسی باندھی جاتی تو پوری سڑک ایک مکان بن جاتی ہے۔ یہ گلی اس بات کی ایک مثال ہے کہ ان اصولوں کو کس قدر تفصیلی اور سخت بنایا گیا۔

2 نیکودیمس نہ صرف ایک فریسی تھا بلکہ وہ ان ستر ممبروں میں سے ایک تھا جنہوں نے یہودی حکمران کونسل، مجلس عمل کی تشکیل کی تھی، مجلس یہودیوں کا حکمران سپریم کورٹ تھا، جس کا دائرہ دنیا کے ہر یہودی پر ہے۔

3 وہ اسرائیل کا اُستاد تھا، یسوع نے کہا (آیت 10)۔ یسوع جانتا تھا کہ وہ کون تھاجیسا ہرطرح عمل کرنےوالہ یہودی شخص تھا۔ اسرائیل کے اُستاد کی حیثیت سے اس صحیفے میں نیکودیمس کا تذکرہ کیا گیا ہے جس کا یونانی زبان میں ایک قطعی مضمون ہے، جس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ نیکودیمس اس ملک میں اعلی درجہ کا استاد تھا۔ اس سے کہیں زیادہ امکان ہے کہ اس کے پاس نہت سارےصحابی موجود تھے جو انہیں بہت سارے چھوٹے قواعد کے جوابات کے لئے دیکھتے تھے جو فرض کے طور پر کسی کو صادق سمجھتا تھا۔

سوال 1) نیکودیمس جیسا شخص رات میں یسوع کے پاس کیوں آئے گا (آیت2)؟۔ اگرچہ نیکودیمس ایک عالم تھا، لیکن وہ یسوع سے جواب طلب کر رہا تھا۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ اس کی زندگی میں ایسا کیا کچھ ہو رہا تھا جس کی وجہ سے یہ روحانی تلاش ہو؟۔ وہ رات کو کیوں آیا؟ شاید، یہ اس لیے تھا کہ اس نے دیکھا کہ کس طرح دن میں یسوع کے گرد ہجوم ہو رہاتھا اور اس کے پاس آنے والے لوگوں کی ضروریات کے بارے میں یسوع کتنا توجہ دلاتا تھا۔ وہ محض یسوع کے ساتھ کچھ خاص وقت گزارنے کی کوشش کر رہا ہوگا جب وہ دوسری چیزوں سے مشغول نہیں تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نیکودیمس جیسے شخص کی دن میں بہت سی ذمہ داریاں ہو اور اسے اپنی روح کے سوالوں کے داتی جوابات ڈھونڈنے کے لئے بہت کم وقت ملاہو۔ لہذا جب اس نے کام کر لیا تو اس نے یسوع کو ڈھونڈ لیا۔ تیسرا امکان یہ ہے کہ نیکودیمس نہیں چاہتا تھا کہ یہودیوں کے دوسرے حکمران عمائدین کی طرف س پراپوزیشن اور طنز کا سامنا کرنا پڑے۔ وہ رات کو اس لئے آیا تھا کہ دوسرے لوگ اسے اپنے مذہبی ترتیب میں نہیں دیکھ پائیں گے جو یسوع کے دن کی ہر حرکت کو اس طرح دیکھ رہا تھا۔ جیسے اس نے ہیکل کے درباروں میں تعلیم دی تھی۔

نیکودیمس یسوع کے بارے میں مجلس عہد میں سردار کاہن اور دوسروں کے حسد اور نفرت کے بارے میں جانتا تھا۔ بعدازاں جب نیکودیمس نے اپنے آپ کو دوسرے فریسیوں کے ساتھ پایا جو یسوع کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اس نے یہودیوں کی مجلس سے پہلے یسوع کا دفاع کرنے کی کوشش کی لیکن مجلس میں موجود دیگر افراد جنہوں نے یسوع کو ڈانٹ ڈپٹ کا نشانہ بنایا۔

" 50 نیکودیمس نے جو پہلے اُس کے پاس آیا تھا اور اُنہی میں سے تھا اُن سے کہا۔51 کیا ہماری شریعت کسی شخص کو مُجرم ٹھہراتی ہے جب تک پہلے اُس کی سن کر جان نہ لے کہ وہ کیا کرتا ہے؟52 اُنہوں نے اُس کے جواب میں کہا کیا تو بھی گلیل کا ہے؟ تلاش کر اور دیکھ کہ گلیل میں سے کوئی نبی برپا نہیں ہونے کا۔"( یوحنا 50:7ـ52)

ہماری جانوں کا دشمن، شیطان ہمیں خداوند پر ہمارے یقین کے بارے میں دلیری سے بولنے سے ڈرانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس دنیا میں جو روح کام کررہی ہے وہ مسیح پر ایمان لانے والوں کے اثر کوکم کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ( افسیوں 2:2)۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ روح کی ایک غربت ہمارے اُوپر آجاتی ہے جب ہم مسیح پر اپنے اعتماد کو چھپاتے ہیں۔ بائیل کہتی ہے " لیکن صادق شیر ببر کی مانند دلیر ہے۔" ( امثال 1:28 آیت)

جب کافروں میں مسیح کے لئیے کھٹرے ہونے کی بات ہو تو ہمت کرو۔ یہ جو بھی وجہ تھی کہ نیکودیمس رات کو آیا تھا۔ یہ ظاہر ہے کہ اس کے دل میں کچھ ہلچل مچا ہوا تھا۔ اسے یقین تھا کہ یسوع کے پاس کچھ ہے جو اس کے پاس نہیں تھا۔ نیکودیمس نے کچھ نہیں کہا کہ وہ اس کے لیے کیا لے کر آیا ہے۔ بس اتنا کہنے کا موقع ملا کہ اس نے دیکھا کہ خدا یسوع کے ساتھ تھا اور اسے یقین ہے کہ یسوع کو خدا نے بھیجا تھا۔ ( آیت 2) تب بھی، وہ خود اس کا مالک نہیں تھا۔ کیوں کہ اس نے کہا۔ " ہم جانتے ہیں کہ آپ خدا کی طرف سے آئے ہوئے استاد ہیں"۔ ( آیت 2)

گویا یہ دوسرے لوگ بھی ہیں جو یہ کہہ رہے ہیں۔ ایک بدیہی علم، اندرونی گواہ۔ یا بڑھتی ہوئی اگاہی تھی جو نیکودیمس کو مسیح اور اس کے اپنے روحانی دیوالیہ پن کے بارے تھی۔ وہ مسیح کے ایک شخص کے لحاظ سے دلچسپی لینے کے ابتدائی مراحل میں تھا۔ لیکن ابھی تک اپنے لیے مسیح اس کا مالک نہیں ہے۔ " بس یہ یسوع کون تھا"

یقینا اس کے قریب ترین معاشرتی دائرے میں رہنے والوں میں خاصا گرما گرم بحث کا موضوع رہا ہوگا۔ خاس طور پر اس کے بعد جب مسیح ہیکل میں آیا تھا اور پیسہ بدلنے والوں اور قربانی کے جانور فروخت کرنے والوں کو باہر پھینک دیا تھا۔جس کا ذکر پچھلے حصے میں ہے۔ یقینی طور پر، نیکودیمس نے جن معجزات کا مشاہدہ کیا تھا اس نے اس کو یہ دیکھنے میں مدد فراہم کی ہے کہ مسیح کے پاس پہلی بار آنکھ سے ملنے کے مقابلے میں اور بھی بہت کچھ ہے۔ اس وقت تک ان کے تمام کارناموں کے لے نیکودیمس کے پاس کوئی اندرونی گواہ نہیں تھا کہ وہ خدا کے ساتھ ٹھیک ہے۔ وہ مسیح کے پاس ٰآیا تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ اُس میں کی کمی ہے۔ روم کی کلیسیاء کو لکھتے ہوئے، پولس رسول ہمیں بتاتا ہے کہ ہر ایک جو مسیحی ہے اپنی زندگی میں اندرونی گواہی رکھتا ہے۔ اور اسے یہ بتانے دیتا ہے کہ وہ مسیح سے تعلق رکھتا ہے۔

"15 لیکن تم کو لے پالک ہونے کی روح ملی جس سے ہم ابا یعنی اَے باپ کہہ کر پُکارتے ہیں۔16 روح خود ہماری روح کے ساتھ مل کر گواہی دیتا ہے کہ ہم خدا کے فرزند ہیں۔17 اور اگر فرزند ہیں تو وارث بھی ہیں یعنی خدا کے وارث اور مسیح کے ہم میراث بشرطیکہ ہم اُس کے ساتھ دُکھ اُتھائیں تاکہ اُس کے ساتھ جلال بھی پائیں۔" ( رومیوں 15:8ـ17)

سوال 2) آپ کے خیال میں روح القدس کا ہماری روح کے ساتھ گواہی دینے کا کیا مطلب ہے؟

انسان کے لیے نجات ناممکن۔

ایک حاکم، ایک استاد، اور ایک فریسی کی حیثیت سے ، اس شخص کی اس طرح کی صداقت تھی جس کی پوری قوم کو حسد تھا، لیکن کچھ بھی گم تھا۔ وہ کافی اچھا نہیں تھا۔ یسوع نے سکھایا کہ صرف نیک کاموں کے نظام کو قائم رکھنے کے علاوہ بھی کچھ اور کی ضرورت ہے۔

" کیونکہ مَیں تم سے کہتا ہوں کہ اگر تمہاری راستبازی فقہیوں اور فریسوں کی راستبازی سے زیادہ نہ ہوگی تو تم آسمان کی بادشاہی میں ہرگزداخل نہ ہو گے"۔ ( متی 20:5آیت)

خداوند کو وہ سوال معلوم تھا جو نیکودیمس کے ذہن میں تھا۔ اس نے اس سے کہا، '' کوئی بھی خدا کی بادشاہی نہیں دیکھ سکتا جب تک وہ دوبارہ پیدا نہ ہو"۔ ( یوحنا 3:3 آہت)۔ یونانی زبان کا ترجمہ " دوبارہ پیدا ہونا" کے لفظ کے ساتھ ہوا ہے جس کا لفظ عنین ہے۔ ایک ایسا لفظ ہے جس کے معنی دو مختلف چیزوں سے ہوسکتی ہے۔ اس کا مطلب پھر دوسری بار ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ ایک دوسری بار کے معنی میں ہے، یا اس کا مطلب اوپر سے ہوسکتا ہے جیسا کہ خدا کو ہماری روح میں ایک کام کرنا ہے۔اس سے پہلے کہ ہم خدا کی بادشاہی کا پتہ لگا سکیں۔ دونوں شرائط درست ہیں۔ یسوع کے الفاظ نیکودیمس کے لیے صدمے کی طرح ہوئے کیونکہ مذہبی یہودیوں کا خیال تھا کہ چونکہ وہ ابراہیم کے فرزند ہیں اور شریعت پر عمل پیرا ہیں، لہذا وہ سب خدا کی بادشاہی میں داخل ہوں گے۔ اُنہوں نے بایر کا لباس زیب تن کیا، لیکن اندر ہی سے منافقت سے بھرے ہوئے تھے۔

" اے ریا کار فقیہو اور فریسو تم پر افسوس۔ کہ تم سفیدی پھری ہوئی قبروں کی مانند ہو جو اُوپر سے تو خوبصورت دکھائی دیتی ہیں مگر اندر مُردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہیں۔"

( متی 23:27 آیت)

ہر کسی آدمی میں( ایک رستبازی سے روحانی حساب کے لیے) کوئی نہ کوئی خامی ہو تی ہے۔ اندرونی تبدیلی کے بغیر ہماری زندگی ایک جیسی ہی رہتی ہے۔ تبدیلی کو اندر سے آنے کی ضرورت ہے اور ہم خود ہی یہ تبدیلی لانے کے لئے کافی نہیں ہیں۔یعنی نئی پیدائش۔ ہمیں قوت کے منبع سے رابطہ قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ انسان کے اندر، دل کو ٹھیک کرنا ہوتا ہے۔ ہمارے پاس ایک مذہبی اصطلاح ہے، اس کو تخلیق نوکہا جاتا ہے۔

" تو اُس نے ہم کو نجات دی مگر راستبازی کے کاموں کےسبب سے نہیں جو ہم نے خود کیے بلکہ اپنی رحمت کے مطابق نئی پیدایش کے غسل اور روح القدس کے ہمیں نیا بنانے کے وسیلہ سے۔"

ططس ( 3:5 آیت)۔

مسیحی بننا زندگی میں ایک نئی شروعات نہیں ہے ۔ اس کو ایک نئی زندگی مل رہی ہے جس کے ساتھ شروعات کرنی ہے۔ مصنف جے سڈلو بیکسڑ، نے کہا۔ تخلیق نو چشمہ ہے تقدیس دریا ہے۔

یسوع کا بیان نیکودیمس کے لیے چیلینج تھا۔ یہودی لوگوں کا عقیدہ تھا کہ، اگر کوئی دولت مند تھا تو یہ ایک اچھی علامت ہے کہ وہ آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونے کے راستے میں ہے۔ تعلیم کے ایک اور حصے میں یسوع نے شاگردوں کو بتایا کہ ایک امیر آدمی کے لیے بادشاہی میں داخل ہونا مشکل ہے۔ وہ مسیح کے اس بیان سے چونک گئے۔

" اور یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ دولتمند کا آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونا مشکل ہے۔ اور پھر تم سے کہتا ہوں کہ اُونٹ کا سوئی کے ناکے میں سےنکل جانااِس سے آسان ہے کہ دولتمیند خدا کی بادشاہی میں داخل ہو۔ شاگرد یہ سن کر بہت ہی حیران ہوئے اور کہنے لگے کہ پھر کون نجات پاسکتا ہے؟۔ یسوع نے اُن کی طرف دیکھ کرکہا کہ یہ آدمیوں سے تو نہیں ہو سکتا لیکن خدا سے سب کچھ ہو سکتا ہے"۔ متی ( 19: 23ـ26 آیت)

کچھ لوگ سکھا تے ہیں کہ سوئی کی آنکھ سے مراد ایسے شہر کا دروازہ ہے جو اتنا چھوٹا ہے کہ آپ کے سامان سے لدی اونٹی کو داخل کرنے کے لیے کسی شخص کو گیٹ سے داخل ہونے سے پہلے اسے اتارنا پڑتا ہے۔ میرے خیال میں اگرچہ اس حوالہ کی لفظی ترجمانی ہونی چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ یسوع یہ کہہ رہا ہے کہ جس طرح اُونٹنی کو سوئی کے ناکے سے گزارنا ناممکن ہے، اسی طرح کسی کے لیے بھی چاہے آپ دولت مند ہوں یا غریب، خدا کی ابدی بادشاہی میں دوبارہ پیدا ہوئے یا اُوپر سے پیدا ہوئے بغیر داخل ہونا ناممکن ہے۔ خد کی تخلیق نو کے بغیر کسی کی زندگی کے مرکز میں خدا کی بادشاہی میں داخل ہونا ناممکن ہے۔ ہمارے لئے اس سچائی کو پہچاننا اتنا ضروری ہے کہ اس عبارت میں تین بار تنہا، مسیح نے کہا،

" مَیں آپ کو سچ کہتا ہوں" ( 3،5،11آیت)۔ یہ بیان اس کے الفاظ کی اہمیت کو ظایر کرتا ہے۔

اس آدمی کے لیے مشکل ہے جو زندگی کو ہمیشہ ظاہری نقطہ نگاہ سے دیکھتا رہتا پے تاکہ اس طرح کی باتوں کے اردگرد اپنے ذہن کو روحانی پیدائش کی ضرورت کا سامنا کرنا پڑے۔ نیکودیمس نے اسی طرح جواب دیا،جب ہم میں سے بیشتر نے پہلی بار اس طرح کا بیان سنتے ہیں۔ وہ صرف فطری لحاظ سے سوچتا ہے۔ اس کے نزدیک اس بیان کو سمجھنے کا کوئی منطقی طریقہ نہیں تھا اور اس نے اسے حیران کر دیا۔ اگر قدر کی نگاہ سے لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسے دوبارہ پیدا ہونے کے لئے اپنی ماں کے پیٹ میں داخل ہونا پڑے گا۔ وہ لفظی لحاظ سے سوچ رہا تھا اور سوچتا تھا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟۔

یسوع نے اسے بتایا کہ خدا کی بادشاہی خداکی طرف سے روحانی زندگی کے بغیر سمجھی بھی نہیں جا سکتی ہے۔ خداوند اس کے بارے میں اتنا مضبوط ہے کہ وہ نیکودیمس اور ہمارے مفادات کے لئے بھی اسے واضح طور پر لفظ با لفظ دہراتا ہے۔ وہ کہتے ہیں۔ " مَیں تم سے کو سچ کہتا ہوں کوئی شخص خدا کی بادشاہی میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ پانی اور روح سے پیدا نہ ہو۔ جسم جسم کو جنم دیتا ہے، لیکن روح روح کو جنم دیتا ہے۔" ( 5،6 آیات)۔

جو جسم سے پیدا ہوا وہ جسم ہے لکین روحانی بادشاہت میں داخل ہونے کے لئے آپ کی مردہ روح کو خدا کی زندگی کا تحفہ ملنا چاہیے۔ وہ یہ نہیں کہتے ہیں کہ کچھ لوگ اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتے جب تک کہ وہ دوبارہ پیدا نہ ہوں، لکین وہ سخت الفاظ استعمال کرتا ہے، کوئی بھی اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتا جب تک کہ ایک شخص کی زندگی میں دو چیزیں نہ ہوں۔ آپ مسیحی زندگی گزارنے کی کوشش کرکے مسیحی نہیں بن سکتے۔ بالکل اسی طرح آپ کی پیدائش اس دنیا میں، آپ اپنی روحانی پیدائش میں حصہ ڈالنے کے لئے کچھ نہیں کر سکتے ہیں۔ نجات خدا کی طرف سے ایک تحفہ کے طور پر دی گئی ہے۔ ( افسیوں 8:2آیت)۔

یسوع نے کہا جس کی ضرورت ہے وہ دو چیزیں ہیں: پانی اور روح سے پیدا ہونا۔

پانی اور روح سے پیدا ہونا۔

جب تک ہم مسیح کے پاس نہیں آتے اور ابدی زندگی کا تحفہ قبول نہیں کرتے موت تب تک ہماری زندگیوں میں متحرک ہے۔ جب آدم نے خدا کی وارننگ کی نافرمانی کی، یعنی جس دن اس نے باغ عدن میں حرام پھل کھایا تو وہ یقینا مر جائے گا۔ ( پیدائش 17:2آیت)۔آدم 930 سال کی عمر تک جسمانی طور پر نہیں مرا (5:5آیت) جس دن اس نے گناہ کیا اس کے بعد موت نے اپنا کام شروع کیا، لیکن اس کا اثر خدا کی ذات سے رابطہ قائم کرنے اور اس سے گفتگو کرنے کی صلاحیت بھی تھا، جس کا ثبوت عدن کے باغ میں خدا سے روپوش ہونے کی وجہ سے ہے۔ ( پیدائش 8:3آیت)۔ خدا سے ہمارے تعلق کے بغیر، ہم اُمید سے کے بغیر ہیں۔ ( افسیوں 12:2آیت)۔ یہ ایک ایسی حالت جسے خدا مردہ قرار دیتاہے۔ یسوع اس تعلق کو بحال کرنے آئے تھے۔ انہوں نے کہا، " مَیں اِس لیے آیا کہ وہ زندگی پائیں اور کثرت سے پائیں۔" یوحنا 10:10آیت)اگر یسوع ہمیں یہ نئی زندگی دینے آیا ہے، تو پھر اس کی زندگی کو حاصل کرنے سے پہلے جو ہمارے پاس ہے وہ ناکافی ہے۔

پولوس رسول افسیس کی کلیسیاء کو اپنے خط میں بھی اسی بات کے بارے میں لکھتا ہے۔ " اور اُس نے تمہیں بھی زندہ کیا جب اپنے قصوروں اور گناہوں کے سبسب سے مردہ تھے۔ اور جب قصوروں کے سبسب مُردہ تھے تو ہم کو مسیح کے ساتھ زندہ کیا"۔ ( تم کو فضل ہی سے نجات ملی ہے)( افسیوں 1:2اور 5آیت)۔ جب لوگ مسیح کے پاس آتے ہیں تو گناہ سے توبہ کرتے ہیں اور مسیح کو اپنی زندگیوں میں قبول کرتے ہیں، تو وہ دوبارہ پیدا ہوتے ہیں: " لیکن جتنوں نے اُسے قبول کیا اُس نے اُنہیں خدا کے فرزند بننے کا حق بخشا یعنی اُنہیں جواُس کے نام پر ایمان لاتے ہیں۔"( یوحنا 12:1آیت) زندگی کا ایک جوہر نئے مسیحیوں کی روح پر مبنی ہے۔ ان کے دلوں کی ہیکل میں پردہ چھین لیا جاتا پے اور خدا کے ساتھ رفاقت بحال ہو جاتی ہے۔ جب ہم مسیح پر اپنا بھروسہ کرتے ہیں تو گناہ کا مسلہ جس نے ہمیں خدا سے جدا کیا ہے وہ دور ہوجاتا ہے۔

سوال 3 ) اس کا مطلب کیا ہوسکتا ہے ؟ جب یسوع پانی سے پیدا ہونے کو کہتا ہے۔

چار ممکنہ تشریحات ہیں:

پانی جسمانی پیدائش کا حوالہ ہے۔ ہماری زندگی کے پہلے نو ماہ میں ہم اپنی ماں کے پیٹ سیال ایمونیٹک بوری میں رہتے ہیں۔ وہ لوگ جو سوچنے کے اس خط پر فائز ہیں ان کا ماننا ہے کہ یسوع کہہ رہے ہیں کہ انسان کو نہ صرف جسمانی پیدائش کی ضرورت ہے بلکہ روحانی پیدائش کی بھی ضرورت ہے۔ یہ ایک بہت ہی لفظی تعبیر ہے۔ اور بہت سے علمائے کرام اس قول کو نہیں رکھتے ہیں۔

دوسرا یہ کہ پانی خدا کے کلام کی علامت ہے۔ ہمیں کلام میں بتایا گیا ہے کہ مسیح کلیسیاء کو " تاکہ اُس کو کلام کے ساتھ پانی سے غسل دے کر اور صاف کر کے مُقدس بنائے۔" ( افسیوں 26:5آیت)۔ ایک اور جگہ یسوع نے اسے اس طرح کہا۔ " اب تُم اُس کلام کے سبب سے جو مَیں نے تُم سے کِیا پاک ہو۔" ( یوحنا 3:15آیت)

اس تشریح میں ، یسوع کہہ رہے ہیں کہ خدا کا روح خدا کے کلام کو کسی گناہ میں سے ایک کو مجرم قرار دینے اور اس کی وضاحت کرنے کے ذریعہ استمال کرتا ہے کہ خدا نے ہمیں سارے گناہ سے پاک کرنے کے لیے کیا کِیا ہے۔ اس خاص تعبیر میں پانی خدا کے کلام کی صفائی کرنے کی طاقت کی علامت ہے کہ وہ ہمارے راستے کو پاک کرے۔ '' تیرے کلام کے مُطابق اُس پر نِگاہ رکھنے سے۔"( زبور 9:119آیت)

ایک اورتیسری تشریح یہ ہے کہ پانی کسی شخص کی زندگی میں روح کی صائی اور تخلیق نو کی علامت ہے جب وہ مسیح سے رجوع کرتا ہے۔جیسے لکھا ہے۔

"4 مگر جب ہمارے مُنجی خدا کی مہربانی اور اِنسان کے ساتھ اُس کی اُلفت ظاہر ہوئی۔5 تو اُس نے ہم کو نجات دی مگر راست بازی کے کاموں کے سبب سے نہیں جو ہم نے خود کِئے بلکہ اپنی رحمت کے مُطابق نئی پیدائش کے غسل اور روح القدس کے ہمیں نیا بنانے کے وسیلہ سے۔"( طِطُس 4:3ـ5آیت)۔

چوتھی تشریح یہ ہے کہ پانی توبہ کی ایک خصوصیت ہے۔ کچھ کا خیال ہے کہ بپتسمہ لینا یسوع کا مطلب تھا، لیکن بپتسمہ باطن کے اندرونی تبدیلی کا ظاہری اظہار ہے۔ یہ وہی ہوتا ہے جو اندر سے ہوتا پے۔ جس سے تمام فرق پڑتے ہیں۔ نیکودیمس کے ساتھ تصادم کے وقت یوحنا بپتسمہ دینے والا ابھی بھی توبہ کے بپتسمہ کی تبلیغ کر رہا تھا۔ ( مرقس 4:1آیت) ( اعمال 4:19آیت) پانی کے نیچے ڈوبنا دنیا کے لیے کہنے کا ایک طریقہ تھا کہ کسی نے توبہ کی ہے۔ ( توبہ کا مطلب ہے کسی کا ذہن بدلنا) اور اپنی گزشتہ زندگی میں مر گیا اور مسیح کی آمد کے ساتھ روح کے آنے کا انتظار کرنا تھا۔ توبہ کرنا ہمارے دور میں اب کوئی مقبول لفظ نہیں ہے۔ کچھ یہ سیکھاتے ہیں کہ کسی کو صرف مسیح پہ ہی ایمان رکھنا ہے۔لیکن مسیح کا پیغام یہ تھا کہ " جب تک لوگ توبہ نہ کریں اور ایمان نہ لائیں وہ ہلاک ہو جائیں گے"۔ ( لوقا 3:13ـ5آیت)

ایک حالیہ تلاش کے دوران، میں نے بائبل میں بائبل گیٹ وے ڈاٹ کام کا استعمال کرتے ہوئے پچھتر بار لفظ " توبہ" پایا، ظاہر ہے کہ یہ ایک اہم موضوع ہے، جس میں رعیت نہیں کی جانی چاہیے یا کسی بھی طرح سے بھی کم نہیں ہونا چاہیے۔

مجھے یعقین ہے کہ چاروں تشریحات دروست ہیں، لہذا ہمیں ان میں سے کسی کے بارے میں قطعی خیال نہیں کرنا چاہیے۔ جب ہم اس طرح کے بیان کو دیکھتے ہیں تو خدا کے کلام میں سچ کی پرتوں کو تلاش کرنا ایک عام بات ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنے دل کی جانچ کریں اور غور کریں کہ کیا آپ نے گناہ سے حقیقی بائبل کی توبہ کی ہے۔ کیا آپ نے پاک روح کو تجھے پاک کرنے اور تجدید کرنے کے لئے کہا ہے؟ کیا آپ واقعتا ان عادات سے آزاد رپنا چاہتے ہیں جو آپ کے کردار اور روح کو متاثر کرتی ہیں۔ اور آپ کی زندگی اور آپنے آس پاس کے دوسروں کی زندگی میں تکلیف کا باعث بنتی ہیں؟ اگر ہم واقعی تمام معروف گناہ سے توبہ کر چکے ہیں تو خدا کا روح ان چیزوں کو روشن کرے گا جن کی ہمیں رخصت کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم یہ سب کچھ نہیں ہے۔ روح القدس سچائی کو نہ صرف ظاہر کرنے کے لئے وفادار ہے بلکہ وہ ہمیں سچائی کی طرف لے جائے گا۔ خدا نہ صرف فدیہ کے لئے روڈ میپ فراہم کرتا ہے بلکہ ہمیں اپنی منزل تک پہنچانے کے لئے بھی گاڑی فراہم کرتا ہے۔ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ایک روحانی بیداری یا پیدائش ہے۔ جو خدا کی طرف سے اس کے کلام اور اس کے روح کے ذریعہ زندگی کی فراہمی کی وجہ سے ہے۔نہ کہ ہمارے راستبازی کے کاموں سے۔ ہم کلام کی اس عبارت میں جو کچھ دیکھتے ہیں وہ ایک ایسا شخص ہے جو اپنی ضرورت کے مطابق جاگتا ہے اور روحانی پیدائش تلاش کرتا ہے۔

سوال4) لوگ کیسے جانتے ہیں کہ وہ پانی اور روح سے پیدا ہوئے ہیں؟ آپ کیا سوچتے ہیں ؟ ہمیں کسی ایسے شخص کی زندگی مین کیا ثبوت دیکھنا چاہیے جس نے واقعتا نجات کا تحفہ حاصل کیا ہو اور دوبارہ پیدا ہواہو( یا اُوپر سے پیدا ہوا ہو)؟

کئی سال پہلے، ایک نوجوان لڑکی چرچ کے بزرگ کے پاس آئی تھی جو اس چرچ کا حصہ بننا چاہتی تھی۔ پہلے، اس سے پوچھا گیا ، کیا آپ کو کبھی پتہ چلا کہ آپ گنگار ہیں؟ " ہاں" اس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ سے کہا۔ " مَیں نے واقعتا ایسا ہی کیا"۔ دوسرا سوال اس کے سامنے رکھا گیا، کیا آپ کو لگتا ہے، میری بچی کہ آپ نے تبدیلی کی؟" مجھے معلوم ہے کہ میرے پاس ہے۔ فوری جواب تھا۔ " ٹھیک ہے۔ سوال آیاہے۔ " آپ میں کیا تبدیلی آئی ہے؟" " ٹھیک ہے " اس نے کہا، یہ اس طرح ہے۔ میرے تبدل ہونے سے پہلے، میں گناہ کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔ اب میں اس سے بھاگ رہی ہوں۔ کردار کی یہ تبدیلی دوبارہ پیدا ہونے والے تجربے کا ثبوت ہے۔ یہ رویہ کی تبدیلی اور سمت میں تبدیلی دونوں ہی میں ہے۔

آئیے کسی شخص کے دوبارہ ہیدا ہونے کے کچھ ثبوتوں پر روشنی ڈالنے میں تھوڑا وقت لگائیں، لیکن ہوشیار رییں کہ ان چیزوں کے نشانات کے طور پر نہیں دیکھا جاتا ہے جو آپ کر سکتے ہیں۔وہ روح کے ذریعہ نہیں اندرونی تبدیلی کا پھل ہیں نہ کہ ہمارے جسم سے۔

1کیاآپ سچائی سے انجیل پر ایمان رکھتے ہیں؟ ہم پیغام کی سچائی سے متعلق دہنی اعتراف کے بارے میں بات نہیں کررہے ہیں۔ بلکہ ایک دل کا اعتقاد جو آپ کی روزمرہ کی زندگی میں خدائی قدروں کو پورا کرتا ہے۔ اگر آپ یقین کرتے ہیں یا نہیں آپ کی زندگی دکھائے گی۔ یسوع نے کہا۔ " ان کے پھلوں سے تم ان کو پہچان لوگے۔ کیا لوگ کانٹوں کی جھاڑیوں سے انگور یا انجیروں کو انجیر کو چنتے ہیں"؟ ( متی 16:7آیت)

آپ کی زندگی میں روح کے پھل کا بڑھتا ہوا ثبوت ہونا چاہیے ( گلتیوں 16:5ـ25 آیت)۔

2 کیا آپ کے لیے صلیب پرمرنے کے لیے خداوند یسوع کی طرف سے ایک شکرگزار اور محبت بھرا دل ہے۔؟ 3 کیا آپ کو خدا کا کلام جاننے کی بھوک لگی ہے؟ " لیکن اگر کوئی اس کے کلام کی تعمیل کرتا ہے تو خدا کی محبت اس میں واقعی پوری ہوجاتی ہے۔ اسی طرح ہم جانتے ہیں کہ ہم اسی میں ہیں۔" ( 1 یوحنا 5:2آیت)

4 کیا آپ کے دل میں مسیح کی واپسی کی اُمید ہے؟ 2 عزیز دوستو، اب ہم خدا کے فرزند ہیں، اور ہم جو کچھ ہوں گے اس کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ جب وہ ظاہر ہوتا ہے تو ہم اس کی طرح ہوجاہیں گے، کیونکہ ہم اسے اسی طرح دیکھیں گے جیسے وہ ہے۔ 3 جو بھی اس میں یہ اُمید رکھتا ہے وہ اپنے آپ کو پاک کرتا ہے بالکل اسی طرح جیسے وہ پاک ہے۔"( 1 یوحنا 2:3ـ3آیت)

5 جب آپ گناہ کرتے ہیں تو کیا آپ خود پریشان اور مایوس ہوتے ہیں؟ اگر آپ نے مسیح کو اپنی زندگی کے تخت پر بیٹھنے کی دعوت دی ہے اور اسے اختیار دیا ہے تو جب آپ گناہ کریں گے تو روح آپ کو مجرم قرار دے گی۔

6 کیا آپ دوسروں سے محبت کرتے ہو اور اُن سے جو خدا سے پیارکرتے ہیں؟ کیا آپ اپنے اردگرد رہنے والے مسیحیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں؟۔ '' ہم جانتے کہ ہم موت سے زندگی میں گزر چکے ہیں، کیوں ہم اپنے بھائیوں سے پیار کرتے ہیں، جو بھی پیار نہیں کرتا وہ موت میں رہتا ہے۔" ( پہلا یوحنا 14:3آیت)

7 کیا آپ اپنی زندگی میں کام کرنے پر روح کے بارے میں شعور رکھتے ہیں؟۔ اگر ایسا ہے تو، یہ بھی آپ میں کام کرتے ہوئے خدا کی زندگی کا ثبوت ہے۔ " ہم جنتے ہیں کہ ہم اسی میں رہتے ہیں اور وہ ہم میں رہتے ہیں۔ کیونکہ اس نے ہمیں اپنی روح عطا کی ہے''۔ ( پہلا یوحنا 13:4آہت)

میری اپنی روحانی عدم اطمینانی

میں نے مسیح کو پانچ سال کے عرصے میں ایک طویل تلاش کے بعد پانچ مختلف براعظوں اور نہت سے مختلف ممالک کا دورہ کیا۔ مجھے موت کے قریب کا تجربہ ہوا۔ جس نے مجھے اس بات سے اگاہ کیا کہ موت زندگی کا خاتمہ نہیں، بلکہ صرف آعاز کا راستہ ہے۔ مَیں نے حقیقت میں اپنا جسم چھوڑا اور خود کو چھت سے دیکھا۔ جب مَیں موت اور زندگی کے مابین جاکر کھڑا ہوا، میں نے ایک ایسے خدا کو پکارا جس کو مَیں نہیں جانتا تھا۔ مَیں نے سوچا کہ، جب کوئی شخص فوت ہوا اور بس! مَیں نے خدا سے کہا جسے میں نہیں جانتا تھا، " مَیں تمہیں اپنی جان دوںگا اور جو چاہو کروں گا اگر تم میری جان بچاتے ہو اور مجھے زندہ رہنے دو"۔ خدا نے میری دعا سنی، اور میں فورا ہی اپنے جسم میں واپس آگیا۔ اس وقت سے مَیں نے محسوس کیا کہ مجھے کسی پوشیدہ شخص نے رہنمائی کی! لیکن خدا کا خدا کون تھا مجھے کوئی اشارہ نہیں تھا! مسیح کی انجیل کو کسی نے کبھی مجھے نہیں بتایا تھا، لہذا مَیں نے ہندو مذہب اور بدھ مت کی شکل میں مذہب کی کوشش کی۔ اس نے خدا کے لئے میری اندرونی پیاس کو پورا نہیں کیا، لہذا میں فلسفہ اور کچھ عجیب وغریب چیزوں کا مطالعہ کرتا رہا جو خفیہ بات پر پابند تھا۔

جب مَیں نے اپنی تلاش ختم کردی اور مجھے پتہ چلا کہ وہ سب بے نتیجہ ہیں تو مَیں نے ہال لنڈسی کی ایک کتاب ہمارے سامنے آنے والی پیشنگوئی پر پوری طرح سے شائع کی۔ کتاب مرحوم عظیم سیارہ ارتھ کہا جاتا تھا۔ اس کتاب کو پڑھتے ہی میری آنکھیں اس حقیقت سے کھل گئیں کہ خدا دنیا میں کام کر رہا ہے اور ہمیں اپنے آلہ کاروں پر نہیں چھوڑا ہے۔ مَیں نے اپنے لیے اُس کے پیار کو سیکھا اور کچھ ہی ہفتوں بعد ، مَیں مسیح کی واپسی کے بارے میں مزید معلومات کے لیے امریکہ میں مغرب کی طرف تلاش کرنے کے لیے ایک طیارے میں سوار ہوا۔ خداوند نے یہ یعقینی بنایا کہ مَیں ہوائی جہاز پر کسی ایماندار کے ساتھ بیٹھا ہوں۔ اس نے مجھے اپنے کرایے کی کار میں ریاست ورجینیا کے ایک مسیح سمر کیمپ میں سوار ہونے کی دعوت دی تاکہ اس کے ساتھ بائبل کی پیشنگوئی کا مطالعہ کریں۔ کسی طرح ہم امیگریشن سے گزرتے ہوئے الگ ہو گئے۔ مجھےحراست میں لیا گیا جب افسران نے میرے پاسپورٹ اور بہت سارے ممالک کا دورہ دیکھا۔ تب مَیں بالاخر امیگریشن کے ذریعے پہنچا تو مَیں نے ایک گرا ہاونڈ بس لی، مجھے یعقین ہوگیا کہ اس کا خداآگے بڑھنے والہ ہے جع میرا تعاقب کر رہا ہے۔ اور مَیں ورجینیا کے رچمنڈ پہنچا۔ دو دن بعد مَیں اسٹیشن گیا اور رچمنڈ سے بیس میل دور ایک جگہ کیمپ گراونڈ کا ٹکٹ خریدا۔ بس کی قطار میں صرف وہی امریکی تھا جسے مَیں پورے ملک میں جانتا تھا۔ جس سے جہاز میری ملاقات ہوئی تھی۔ اس دن اور اسی وقت اس نے اپنی گاڑی کو وریبی شہر لے جانے کا انتخاب کیا تھا تاکہ اب وہ کرایہ کی فیس ادا نہ کرے۔ اس نے میری جیسی بس کو پکڑا اور وہ مجھے اس کیمپ میں لے آیا جہاں مَیں نے پہلی بار انجیل سنائی۔ میں نے مسیح کا استقبال اس موسم گرما کے کیمپ میں کہیں سے بھی خدا کی روح کے قد اور رابطے کے ساتھ کیا تھا۔

جب مَیں نے مسیح کو اپنی زندگی میں قبول کیا اور دوبارپ پیدا ہوا تو ھجھے مجھ سے دور وزن کا سامنا کرنا پڑا۔ میرا دل بہت دنوں سے جیلی کع طرح تھا۔ یسوع کے ذرا ذرا بھی تذکرے پر ، مَیں رو پڑا۔ مجھے یہ ےویقن کرنا مشکل ہے کہ کس نے مجھ سے اسی طرح پیار کیا جیسے میں تھا، یعنی ایک تھکا ہوا، زخمی گنہگار پیار کرنے کی آرزو میں۔ میرے لئے یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس سے کبھی نہیں بھولوں گا۔ مَیں جانتا تھا کہ میں مختف تھا۔ مَٰیں بہت خوش تھا۔ مَیں نے خدا کی طرف سے پیار محسوس کیا اور دوسروں سے پیار پایا، جس کا تجربہ مَیں نے پہلے نہیں کیا تھا۔۔ میرے دل میں اس وقت کلام الہی کا جزبہ دوسرے مسیحیوں سے محبت اور جو اس کے بغیر باقی ہیں۔ ان کو یہ بتانے کی خواہش تھی کہ ان کو بھی کتنا پیار ہے۔ میری روح تھی اور مطمن ہے۔ ہر ایک کا سفر انوکھا ہوتا ہے۔ میری زندگی نے ایک بنیادی رخ موڑ لیا کیونکہ مَیں بہت مایوس اور خدا سے دور زندگی گزار رہا تھا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ ہمیں تلاش کے مقام پر کیا لے جاتا ہے۔ ہم سب کو کسی نی کسی وقت ایک سنگم پر لایا جاتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم اپنی زندگیوں کا جائزہ لیتے ہیں اور زندگی میں اپنی جگہ ہم نے کیا حاصل کیا، اور زندگی کے معنی کے بارے میں تعجب کرتے ہیں۔ آپ کے خیالات ہوسکتے ہیں۔ جیسے " کیا یہ سب کچھ ہے" " یہ زندگی کیا ہے"َ؟ اگر آپ خود کو اس طرح کے خیالات محسوس کرتے ہیں تو آپ ایک سنگم پر ہیں۔ مسیح کو وہاں ڈھونڈو۔ وہ انتظار کرے گا۔

نیکودیمس مسیح سے ملنے کی وجہ سے ایک ایماندار بن گیا۔ دو سال بعد صلیب پر ، ہم اسے مسیح کی قبر پرارمیتا کے یوسف کے ساتھ اکٹھے پاتے ہیں۔ " 39 اور نیکودیمس بھی آیا۔ جو پہلے یسوع کے پاس رات کو گیا تھا اور پچاس سیر کے قریب مُر اور عُود ملا ہوا لایا۔ 40 پس اُنہیوں نے یسوع کی لاش لے کر اُسے سوتی کپڑے میں خوشبودار چیزوں کے ساتھ کفنایا جس طرح یہودیوں میں دفن کرنے کا دستور ہے۔'' ( یوحنا 39:19ـ40)

تم کیسے ہو؟ کیا آپ کے دل میں پورا ایمان ہے، یعنی روح کا وہ اندرونی گواہ، کہ آپ دوبارہ پیدا ہوئے ہیں اور خدا کے فرزند ہو؟ کیا یہ ممکن ہے کہ ، نیکودیمس کی طرح آپ کو بھی لگتا ہے کہ آپ کو کچھ یاد آرہاہے؟ خدا کے روح سے دوبارہ پیدا ہونے اور خدا کے ساتھ سکون کا لطف اُٹھانے کے لئے آپ کو گناہ سے توبہ کرنے کی ضرورت ہے اور مسیح کو اپنی زندگی میں آنے کا مطالبہ کرنا چاہیے اور اس وقت سے اس کا کنٹرول ہو۔ یہاں ایک دعا ہے جس کو آپ کر سکتے ہیں:

دعا:

اے باپ، اب مَیں تیرے پاس آتا ہوں۔ اس ایمان سے کہ آپ مجھ سے پیار کرتے ہو۔ اور میری زندگی کے لیے کوئی منصوبہ رکھتے ہو، آپ کا شکریہ کہ آپ نے مجھ سے اتنا پیار کیا کہ آپ نے اپنے بیٹے کو میرے گناہ کی سزا دینے کے لیے دینا میں بھیجا، جس نے مجھے آپ کی موجودگی سے لطف اندوز ہونے سے طویل عرصہ تک روک رکھا ہے۔ مَیں توبہ کرتا ہوں اور گناہ سے باز آجاتا ہوں اور مسیح سے وعا گو ہوں کہ وہ آئیں اور مجھ میں زندہ رہیں۔ میں اُسے اپنی زندگی کا کنٹرول دیتا ہوں۔ ابدی زندگی کے اس تحفہ کے لیے۔ اے باپ آپ کا شکریہ۔ آمین!

کیتھ تھامس۔

۔